ابنا: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلي کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے يہ بات زور ديکر کہی کہ تشدد اور دہشتگردی نے دنيا کي حالت کو خوفناک بنا ديا ہے۔ اقوام متحدہ کے سيکريٹری جنرل نے بعض حکومتوں کے غير ذمہ دار رويئے پر کڑی نکتہ چينی کرتے ہوئے کہا کہ عالمی رہنماؤں سے توقع ہے کہ وہ اپنے فيصلوں ميں آئندہ نسلوں کے مفادات کو مدنظر رکھيں گے۔انہوں نے دنيا کو در پيش مسائل کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ شام ، جنوبي سوڈان، سينٹرل افريقن ري پبلک اور کانگو ميں جاري انساني الميے دوسرے تمام مسائل سے کہيں زيادہ تشويش اور پريشاني کا باعث ہيں۔نہوں نے عالمي برادري اپيل کي کہ تشدد کي روک تھام کا راستہ تلاش کريں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کي ان کوششوں کا بھي ذکر کيا جو ان کا ادارہ بعض افريقي ملکوں ميں جاري تنازعات کے خاتمے کے لئے کر رہا ہے۔ سيکريٹري جنرل بان کي مون نے کہا کہ بعض افريقي ملکوں ميں جاري قومي اور مذہبي اختلافات اتنہائي تشويشناک اور خطرناک شکل اختيار کرگئے ہيں۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ پہنچا ہے کہ سياسي اور مذہبي رہنما مل کر مذہبي تشدد کے خاتمے کي راہ تلاش کريں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
18 جنوری 2014 - 20:30
News ID: 498049
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلي کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے يہ بات زور ديکر کہی کہ تشدد اور دہشتگردی نے دنيا کي حالت کو خوفناک بنا ديا ہے۔